تودہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بہت زیادہ، بکثرت، ڈھیروں۔ "جب گھر میں تودہ مرچیں ہیں تو اور کیوں خریدی جائیں۔"      ( ١٨٨٨ء، فرہنگ آصفیہ ) ١ - ڈھیر، انبار، اٹم۔  جس نے یہ بات سنی آئی بس اسکی خواری ڈال دی تودہ باروت میں اک چنگاری      ( ١٨٧٨ء، بحر (شعلہ حوالہ، ٢٨٥:١ ) ٢ - مٹی کا ٹیلا یا کچی دیوار جس پر تیرانداز تیروں کی مشق کرتے ہیں، نشانہ گاہ، ہدف۔  نظر سیدھی ہوئی تو اسکی مژگاں نے چڑھائی کی یہ سینہ تودۂ تبروسناں یوں بھی ہے اور یوں بھی      ( ١٩٠٥ء، گفتار بیخود، ٢١٤ ) ٣ - مٹی کی منڈیر جو حدود اراضی ظاہر کرنے کو قائم کر دیتے ہیں، مینڈ، ٹھیا۔ "منڈیر یا تودوں پر ایسے دلدلی مقامات میں تخم ریزی کی جاتی ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، تربیتِ جنگلات، ٢٣٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے دخیل کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم اور شاذ بطور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بہت زیادہ، بکثرت، ڈھیروں۔ "جب گھر میں تودہ مرچیں ہیں تو اور کیوں خریدی جائیں۔"      ( ١٨٨٨ء، فرہنگ آصفیہ ) ٣ - مٹی کی منڈیر جو حدود اراضی ظاہر کرنے کو قائم کر دیتے ہیں، مینڈ، ٹھیا۔ "منڈیر یا تودوں پر ایسے دلدلی مقامات میں تخم ریزی کی جاتی ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، تربیتِ جنگلات، ٢٣٩ )