توقیر
معنی
١ - عزت، عظمت، مرتبہ۔ "اب یہاں کی عورتوں کے علاوہ سارے جہاں کی عورتوں کی توقیر ہماری نظروں میں بڑھ جائے گی۔" ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ٢٢١ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ عربی زبان سے اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو قائم کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عزت، عظمت، مرتبہ۔ "اب یہاں کی عورتوں کے علاوہ سارے جہاں کی عورتوں کی توقیر ہماری نظروں میں بڑھ جائے گی۔" ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ٢٢١ )