تول

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - تولنے کا عمل۔  اک ذرا کھسکانہ پلہ تول میں تقدیر کا پھول تھا سنگ ترازو کیا مری تدبیر کا      ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانہ 'الہام' ٤ ) ٢ - وزن، مقدار۔  حاضر ہے گو پسند ہو کیا دل کا مول ہے قیمت کو پوچھتے ہو تو سونے کی تول ہے    ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانہ 'الہام' ٣٨٧ ) ٤ - توازن، دونوں طرف ہم وزن ہونا۔ "یہی توازن اور برابر کی تول رسولوں کے ذریعے آئی ہوئی میزانِ شریعت کے مطابق . ہونی چاہیے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٠٥:٤ )

اشتقاق

ہندی زبان سے اسم ہے۔ ہندی کے مصدر 'تُلْنا' سے فعل متعدی 'تولنا' بنا۔ جس سے 'نا' علامت مصدر ہٹا کر حاصل مصدر 'تول' بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - توازن، دونوں طرف ہم وزن ہونا۔ "یہی توازن اور برابر کی تول رسولوں کے ذریعے آئی ہوئی میزانِ شریعت کے مطابق . ہونی چاہیے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٠٥:٤ )

اصل لفظ: تلنا
جنس: مذکر