توپ
معنی
١ - ایک آلۂ جنگ جس میں گولا بارود بھر کر چلایا جاتا ہے اس کی نال لمبائی اور گولائی میں بندوق کی نال کے مقابلے میں بہت بڑی ہوتی ہے۔ سر ہو رہی ہیں توپیں، بندوقیں چھٹ رہی ہیں نور و سرور شادی گھر گھر ہے آشکارا ( ١٩١٨ء، سحر (سراج میرخان)، بیاض سحر، ١٠٣ ) ٢ - [ مجازا ] بہت موٹا آدمی، پھپس آدمی یا عورت۔ "توپ کی توپ اکھاڑے میں پڑے اینڈ رہے ہیں۔" ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ٦٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم ہے اردو میں فارسی زبان سے ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ آیا اردو میں سب سے پہلے ١٧١٩ء کو "جن نامہ عالم علی خان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ مجازا ] بہت موٹا آدمی، پھپس آدمی یا عورت۔ "توپ کی توپ اکھاڑے میں پڑے اینڈ رہے ہیں۔" ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ٦٦ )