تپش

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - گرمی، (بخار کی) حرارت، سوزش، (دھوپ کی) تمازت۔ "بخارات پانی سے اٹھے جو سورج کی تپش سے گرم ہو کر یہ صورت اختیار کر لیتے ہیں۔"      ( ١٩٣٤ء، سیرۃ النبیۖ ، ٥٦:٣ ) ٢ - اضطراب، تڑپن، سوز و گداز، حرکت مذبوحی، بسمل کی تڑپ۔  ہے غایت تپش قلب و شوق جاں بازی نہایت خلش مدعا ہے پاس وفا      ( ١٩١٨ء، نقوش مانی، ٥ ) ٣ - درجہ حرارت، ٹمریچر۔ "ٹمریچر یا تپش کسی شے کے گرم یا سرد ہونے کی حالت کا نام ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، حرارت، ١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٦٠٩ء میں قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گرمی، (بخار کی) حرارت، سوزش، (دھوپ کی) تمازت۔ "بخارات پانی سے اٹھے جو سورج کی تپش سے گرم ہو کر یہ صورت اختیار کر لیتے ہیں۔"      ( ١٩٣٤ء، سیرۃ النبیۖ ، ٥٦:٣ ) ٣ - درجہ حرارت، ٹمریچر۔ "ٹمریچر یا تپش کسی شے کے گرم یا سرد ہونے کی حالت کا نام ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، حرارت، ١ )

جنس: مؤنث