تکثیر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - افزونی، بڑھوتری، تکثّر، افراط، کثرت، زیادہ ہونا، بہت سے حصّے ہونا۔ "پیغمبر صاحب کو کھار کی ایذا دہی سے بچنے کے لیے تکثیر جماعت کی سخت ضرورت تھی۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٤٢:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب تفصعیل کے وزن پر مشتق کیا گیا اسم ہے جو اردو میں اپنے اضل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٩٣٠ء کو "کلیات نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - افزونی، بڑھوتری، تکثّر، افراط، کثرت، زیادہ ہونا، بہت سے حصّے ہونا۔ "پیغمبر صاحب کو کھار کی ایذا دہی سے بچنے کے لیے تکثیر جماعت کی سخت ضرورت تھی۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٤٢:١ )

اصل لفظ: کثر
جنس: مؤنث