تکلم

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کلام، بولنا، بات کرنا۔ "ان کے فضائل میں تکلِّم الٰہی کی فضیلت کو مستقل حیثیت دی گئی ہے۔"      ( ١٩١٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٩٦ ) ٢ - بات چیت، بول چال، روزمرّہ۔ "بے الف ناجائز کیا گیا ہے اس لیے یہ تکلّم اور روزمرّہ میں الف کے ساتھ بولا جاتا ہے۔"      ( ١٨٦٣ء، تلخیص معلّٰی، ٦٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کلام، بولنا، بات کرنا۔ "ان کے فضائل میں تکلِّم الٰہی کی فضیلت کو مستقل حیثیت دی گئی ہے۔"      ( ١٩١٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٩٦ ) ٢ - بات چیت، بول چال، روزمرّہ۔ "بے الف ناجائز کیا گیا ہے اس لیے یہ تکلّم اور روزمرّہ میں الف کے ساتھ بولا جاتا ہے۔"      ( ١٨٦٣ء، تلخیص معلّٰی، ٦٠ )

اصل لفظ: کلم
جنس: مذکر