تھاہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سمندر، کنویں، دریا یا تالاب وغیرہ کی تہ کی زمین یا گہرائی کی حد۔ "وہ ایسے سمندر میں ڈوب گیا جس کا نہ کنارا تھا نہ تھاہ۔"      ( ١٩٤٤ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤١٤:٥ ) ٢ - عمق، گہرائی۔  تھاہ نہ اس سے پائے گا دھارے کا جو بہاؤ ہے دھوکا ہے آس ناؤ کی، اب تو بھنور ہی ناؤ ہے۔١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ١٤٣ ٣ - انتہا، نہایت، حد۔ "کسی نے اتنی دولت پائی جس کی تھاہ نظر نہ آئی۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٢١٦ ) ٤ - منشا، غایت، بھید، حقیقت۔ "اس دنیا کے بے گنتی پہلوؤں میں سے ہر پہلو کی تھاہ تک پہنچنے کی کامیاب یا ناکامیاب کوششوں میں سرگرداں ہیں۔"      ( ١٩٢٧ء، عظمت، مضامین، ٨٦:٢ ) ٥ - وہ جگہ جہاں دریا اتھلایا پایاب ہوتا ہے۔  پست فطرت سے سوائے رنج کچھ حاصل نہیں پابگل کشتی کو کر دیتا ہے پانی تھاہ کا      ( ١٨٤٦ء، آتش، کلیات، ١٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ لفظ 'ستھا' کی مغیرہ صورت ہے۔ اردو میں ١٧٠٧ء کو ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سمندر، کنویں، دریا یا تالاب وغیرہ کی تہ کی زمین یا گہرائی کی حد۔ "وہ ایسے سمندر میں ڈوب گیا جس کا نہ کنارا تھا نہ تھاہ۔"      ( ١٩٤٤ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤١٤:٥ ) ٣ - انتہا، نہایت، حد۔ "کسی نے اتنی دولت پائی جس کی تھاہ نظر نہ آئی۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٢١٦ ) ٤ - منشا، غایت، بھید، حقیقت۔ "اس دنیا کے بے گنتی پہلوؤں میں سے ہر پہلو کی تھاہ تک پہنچنے کی کامیاب یا ناکامیاب کوششوں میں سرگرداں ہیں۔"      ( ١٩٢٧ء، عظمت، مضامین، ٨٦:٢ )

اصل لفظ: ستھا
جنس: مؤنث