تھمنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - رُکنا، ٹھہرنا۔ "خدا کے کلام کی آواز کان میں جائے گی تو دل تھم جائے گا۔"      ( ١٩٥٨ء، خون جگر ہونے تک، ١١٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'ستمبھہ' کی محرفہ شکل 'تھم' کے آگے اردو کے قاعدے سے 'نا' بطور علامتِ مصدر لگانے سے بنا۔ جو اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے، تحریراً سب سے پہلے ١٨٨٣ء کو "دربار اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رُکنا، ٹھہرنا۔ "خدا کے کلام کی آواز کان میں جائے گی تو دل تھم جائے گا۔"      ( ١٩٥٨ء، خون جگر ہونے تک، ١١٠ )

اصل لفظ: ستمبھ