تھوڑا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - اقلیت، قلیل التعداد جماعت۔  یاں کفر ہے ایماں کی ادھر جلوہ گری ہے تھوڑوں کا جو دے ساتھ و غامیں وہ جری ہے      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٣٢:٢ ) ١ - کم، ادنٰی، خفیف۔  ہے بڑی شوخ نہ سمجھے کوئی تھوڑا تجھ کو اے حنا خوب تجھے آگ لگا آتی ہے      ( ١٩٣٢ء، ریاض رضوان، ٣٥٤ ) ٢ - تنگ، چھوٹا، (مجازاً) کم ہمت۔ "عورت ذات، تھوڑا دل، پو رقم، ڈاک بٹھا دی . ہر وقت ماما تقاضے کو کھڑی ہے"      ( ١٩١٧ء، طوفان حیات، ٢٥ ) ٣ - چند، کچھ (عدد کے لیے)۔ "راول بھیم ایک خورد سالہ بچہ دو مہینے کی عمر کا چھوڑ کر مر گیا"      ( ١٩١٠ء، امرائے ہنود، ٢٨٥ ) ٤ - ذرا سا، معمولی۔ "دانا اور نادان دونوں کے دلوں میں کچھ تھوڑا ہی سا فرق نکلے گا"      ( ١٨٧٦ء، تہذیب الاخلاق، ٨٣:٢ ) ٥ - کم حیثیت، مسمسا (نفی کے ساتھ)۔  شیخ کو تھوڑا نہ جانو یہ بڑا مکار ہے ساری دنیا چھوڑ بیٹھا ہے تلاش حور میں      ( ١٨٧٢ء، مراۃ الغیب، ١٨٩ ) ٦ - ناکافی، بہت کم۔  یہ چرکا ہے کیا جی جلانے کو تھوڑا بڑھائے تو پینگ اور ناتانہ جوڑا      ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ١٢ ) ١ - (کیفیت کے لیے) کم، کمی کے ساتھ۔  خلق میں کون مرے حال پہ گریاں نہ ہوا دوست گر روئے بہت سن کے تو دشمن تھوڑا      ( ١٨٨٩ء، رونق سخن، ٢٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اصل لفظ 'ستوک+ر+کہ' ہے اردو میں تصرف کے ساتھ داخل ہوا اور عربی رسم الخط میں لکھا جانے لگا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٩٩ء کو "کتاب فورس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - تنگ، چھوٹا، (مجازاً) کم ہمت۔ "عورت ذات، تھوڑا دل، پو رقم، ڈاک بٹھا دی . ہر وقت ماما تقاضے کو کھڑی ہے"      ( ١٩١٧ء، طوفان حیات، ٢٥ ) ٣ - چند، کچھ (عدد کے لیے)۔ "راول بھیم ایک خورد سالہ بچہ دو مہینے کی عمر کا چھوڑ کر مر گیا"      ( ١٩١٠ء، امرائے ہنود، ٢٨٥ ) ٤ - ذرا سا، معمولی۔ "دانا اور نادان دونوں کے دلوں میں کچھ تھوڑا ہی سا فرق نکلے گا"      ( ١٨٧٦ء، تہذیب الاخلاق، ٨٣:٢ )

جنس: مذکر