تہ
معنی
١ - نیچے، تلے، زیر۔ رخسار مہتاب پہ گر دامن سحاب وہ نور شب فروز کا جلوہ تہ نقاب ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٣٣ ) ٢ - تھاہ، گہرائی کی انتہا، پایاں۔ "حرت یونس نے سمندر کی تہ میں سے خدا کو پکارا تو اس نے سنا۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٧٤:٣ ) ٣ - تلا، پیندا۔ "ایک خالی ظرف لے کر اس کی تہ میں ایک روپہ موم سے جماؤ" "جوانی کا ابال چھٹ جاش اور جو تہ میں تلچھٹ بیٹھ گیا ہے وہ خالص اور پکی محبت باقی رہ جائے۔" ( ١٨٥٦ء، مجموعہ فوائدالصبیان، ١١٣ )( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٧٥ ) ٤ - جڑ، بنیاد، اصل، حقیقت۔ "میں اس سارے مسئلہ کی تہ تک پہنچ چکا ہوں۔" ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ١٣٢ ) ٥ - منشا، عندیہ، بھیجد، رمز۔ "ان مجالس میں دقیق دقیق مباحث کو جن کی تہ تک عوام نہیں پہنچ سکتے، ناپسند فرماتے تھے۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٣٠:٢ ) ٦ - [ مجازا ] گہرائی، معنی خیزی، باریکی، وزن، رمز، کنایہ۔ "طرز تحریر کے ساتھ خیالات میں بھی انوکھا پن دکھایا ہے لیکن ان میں تہہ کم ہے۔" ( ١٩٤٧ء، ادبی تبصرے، ١ ) ٧ - نچلا یا پچھلا حصہ، پس، تحت۔ اے گریہ دعا کر کہ شب غم بسر آوے تاچند ہر اک اشک کی تہ میں جگر آوے ( ١٧٩٥ء، قائم، دیوان، ١٤٦ ) ٨ - بدن پر فربہی کی سلوٹ، چیں۔ "یہاں کی آب و ہوا بھی بدن کی فربہی کی تہ کچھ نہ کچھ اتار دیتی ہے۔" ( ١٩٢٠ء، بریدفرنگ، ١٢٧ ) ٩ - پرت، طبق، ورق۔ تڑپ کے ہم نے جو توڑیں بھی تیلیاں تو کیا غلاف کی بھی کئی ایک تہیں قفس پر ہیں ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ١٢٨:٢ ) ١٠ - ردا، استر، پلاستر۔ "بدن کو یاں تلک مٹی لگائے رکھتے ہیں کہ تہیں جم جاتی ہیں۔" ( ١٨٠٥ء، آرائش محفل، افسوس، ٤٧ ) ١١ - [ مجازا ] وہ اثر جو عقائد کے سبب مرتب ہوں۔ "اس پر مذہبی روایات کی اس قدر تہیں چڑھ گئی ہیں کہ دیکھنے والے کو نظر نہیں آ سکتیں۔" ( ١٩٠١ء، الغزالی، ٢ ) ١٢ - فرش، سطح، زمین جیسے صندل کی تہ جو عطریات میں لگائی جاتی ہے، درمیانی پرت۔ (فرہنگ آصفیہ) ١٣ - جھلک، تحریر۔ رنگ رفتہ نے جھلک دکھلائی منہ پہ اک سرخی کی تہ سی آئی ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٣١١ ) ١٤ - کبوتر کے بیٹھنے کی جگہ، وہ جگہ جہاں کبوتر کو عموماً بٹھایا جاتا ہے۔ گٹی کو نہ پھڑکاویں تو پھر تہ کو نہ آویں چھوڑ ان کو نظیر اپنا دل اب کس سے لگاویں ( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٤٧٣ ) ١٥ - (پرندوں کا) پوٹا، معدہ۔ "علت، سرما زدگی کا طعمہ جلد ہضم نہ ہوے اور تہ جانور کی بخوبی صاف و خالی نہ ہوے۔" ( ١٨٨٣ء، صیدگاہ شوکتی، ١٤٨ ) ١٦ - بھورے رنگ کی بودار رطوبت جو مرغ یا بٹیر کے خالی معدے سے نکلنے لگے۔ "جب تہ آنے لگے تو فوراً دانہ دینا چاہیے ورنہ جانور کے بیمار ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔" ( ١٩٤٤ء، اصطلاحات پیشہ وراں، ١١٣:٨ ) ١٧ - کپڑے کا اکہرا حصہ۔ (جامع اللغات) ١٨ - [ مجازا ] بھاری بھرکم (نفی کے ساتھ) اس فن میں کوئی بے تہ کیا ہو مرا معارض اول تو میں مند ہوں پھر یہ مری زباں ہے ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٣٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے اپنے اصل مفہوم اور ساخت کے ساتھ اردو میں داخل ہوا سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - تھاہ، گہرائی کی انتہا، پایاں۔ "حرت یونس نے سمندر کی تہ میں سے خدا کو پکارا تو اس نے سنا۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٧٤:٣ ) ٣ - تلا، پیندا۔ "ایک خالی ظرف لے کر اس کی تہ میں ایک روپہ موم سے جماؤ" "جوانی کا ابال چھٹ جاش اور جو تہ میں تلچھٹ بیٹھ گیا ہے وہ خالص اور پکی محبت باقی رہ جائے۔" ( ١٨٥٦ء، مجموعہ فوائدالصبیان، ١١٣ )( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٧٥ ) ٤ - جڑ، بنیاد، اصل، حقیقت۔ "میں اس سارے مسئلہ کی تہ تک پہنچ چکا ہوں۔" ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ١٣٢ ) ٥ - منشا، عندیہ، بھیجد، رمز۔ "ان مجالس میں دقیق دقیق مباحث کو جن کی تہ تک عوام نہیں پہنچ سکتے، ناپسند فرماتے تھے۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٣٠:٢ ) ٦ - [ مجازا ] گہرائی، معنی خیزی، باریکی، وزن، رمز، کنایہ۔ "طرز تحریر کے ساتھ خیالات میں بھی انوکھا پن دکھایا ہے لیکن ان میں تہہ کم ہے۔" ( ١٩٤٧ء، ادبی تبصرے، ١ ) ٨ - بدن پر فربہی کی سلوٹ، چیں۔ "یہاں کی آب و ہوا بھی بدن کی فربہی کی تہ کچھ نہ کچھ اتار دیتی ہے۔" ( ١٩٢٠ء، بریدفرنگ، ١٢٧ ) ١٠ - ردا، استر، پلاستر۔ "بدن کو یاں تلک مٹی لگائے رکھتے ہیں کہ تہیں جم جاتی ہیں۔" ( ١٨٠٥ء، آرائش محفل، افسوس، ٤٧ ) ١١ - [ مجازا ] وہ اثر جو عقائد کے سبب مرتب ہوں۔ "اس پر مذہبی روایات کی اس قدر تہیں چڑھ گئی ہیں کہ دیکھنے والے کو نظر نہیں آ سکتیں۔" ( ١٩٠١ء، الغزالی، ٢ ) ١٥ - (پرندوں کا) پوٹا، معدہ۔ "علت، سرما زدگی کا طعمہ جلد ہضم نہ ہوے اور تہ جانور کی بخوبی صاف و خالی نہ ہوے۔" ( ١٨٨٣ء، صیدگاہ شوکتی، ١٤٨ ) ١٦ - بھورے رنگ کی بودار رطوبت جو مرغ یا بٹیر کے خالی معدے سے نکلنے لگے۔ "جب تہ آنے لگے تو فوراً دانہ دینا چاہیے ورنہ جانور کے بیمار ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔" ( ١٩٤٤ء، اصطلاحات پیشہ وراں، ١١٣:٨ )