تہمت
معنی
١ - اتہام، بہتان۔ "کیا تو نے میرے شہزادے کو قتل نہیں کیا . ہرگز نہیں یہ جھوٹی تہمت ہے۔" ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١٣٣ ) ٢ - الزام "بے انتظامی کی تہمت، غفلت کی بدنامی، واجد علی شاہ کے سر پر دھر دی تھی۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٨٤ء کو "رضوان شاہ و روح افزا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اتہام، بہتان۔ "کیا تو نے میرے شہزادے کو قتل نہیں کیا . ہرگز نہیں یہ جھوٹی تہمت ہے۔" ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١٣٣ ) ٢ - الزام "بے انتظامی کی تہمت، غفلت کی بدنامی، واجد علی شاہ کے سر پر دھر دی تھی۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ٤ )