تیرا

قسم کلام: ضمیر شخصی ( مذکر - واحد - حاضر )

معنی

١ - 'تو' کی اضافی حالت، یعنی جب کسی حاضر شخص کی ملکیت کی طرف اشارہ کرنا ہو تو 'تیرا' استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً  آج تک راز حقیقت نہ کھلا عاشق پر دل شیدا کا ہے تو یا دل شیدا تیرا      ( ١٩٤١ء، کلیات فانی، ٢٠٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں 'توں' استعمال ہوتا تھا لیکن اردو میں "تیرا" مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔