تیراک

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - شناور، جو تیرنا جانتا ہو، پیراک۔ "علوم ظاہری کے ساتھ جسمانی طاقت بھی اچھی تھی اور تیراک بھی تھے۔"      ( ١٩٢٩ء، تذکرۂ کاملان رام پور، ٢٤٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے لفظ 'تیر(تی)' سے ماخوذ مصدر 'تیرنا' سے لاحقۂ مصدر 'نا' ہٹا کر 'اک' بطور لاحقۂ صفت لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٤٦ء کو آتش کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شناور، جو تیرنا جانتا ہو، پیراک۔ "علوم ظاہری کے ساتھ جسمانی طاقت بھی اچھی تھی اور تیراک بھی تھے۔"      ( ١٩٢٩ء، تذکرۂ کاملان رام پور، ٢٤٨ )

اصل لفظ: تَیْرنا