تیغ

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - تلوار، شمشیر۔  کیا ڈر مجھے فرعون کا، ہور ساوی افسون کا موسٰی عصا زیتون کا، ہے تیغ ربانی مجھے      ( ١٦١١ء، قلی قطب شاہ، کلیات، ١٠:١ ) ٢ - [ مجازا ]  کاٹ کرنے والی کوئی شے۔  تیغ کا گرنا، دم نہ نکلنا، ہاتھ جھٹکنا، بانکی ادا وقت کی خوبی، میرا تڑپنا، ان کی ندامت، ہائے ستم      ( ١٩٢٧ء، شاد، مے خانۂ الہام، ١٧٧ ) ٣ - گنڈاسے کا دھاردار آہنی حصہ؛ ہنسیا، مچھلی کی کھال چھیلنے اور کاٹنے کا کسی قدر خمیدہ تیز دھار والا اوزار؛ رندے کا اوپر نکلا ہوا حصہ۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 39:1)

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث