ثروت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مال دولت کی کثرت، خوش حالی، مالی فراغت۔ "قدیم دوستوں سے اسی طرح ملتے ہیں جیسے اس زمانے میں حلقے تھے جب ثروت نہ تھی"      ( ١٩٢٤ء، خونی راز، ٣ ) ٢ - [ مجازا ]  بہتات (کسی بھی شے کی) "اس کے الفاظ کی ثروت اس کے علوم کی کثرت کو اس میں دخل تھا"      ( ١٩١٥ء، نقوش سلیمانی، ٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصل معنی اور اصل حالت میں ہی مستعمل ہے ١٨٤٨ء میں "تاریخ ممالک چین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مال دولت کی کثرت، خوش حالی، مالی فراغت۔ "قدیم دوستوں سے اسی طرح ملتے ہیں جیسے اس زمانے میں حلقے تھے جب ثروت نہ تھی"      ( ١٩٢٤ء، خونی راز، ٣ ) ٢ - [ مجازا ]  بہتات (کسی بھی شے کی) "اس کے الفاظ کی ثروت اس کے علوم کی کثرت کو اس میں دخل تھا"      ( ١٩١٥ء، نقوش سلیمانی، ٣ )

اصل لفظ: ثری
جنس: مؤنث