ثریا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ چھ یا سات ستارے جو برج ثور میں باہم متصل واقع ہیں، اور بادی النظر میں ملے جلے نظر آتے ہیں، عقد ثریا، نظم پروین، سات سہیلیوں کا جھمکا۔  ہاں سمجھتا ہوں کہ تیرا طرۂ طرف کلاہ آسماں کیا بلکہ ہے عقد ثریا سے بلند      ( ١٩٢٩ء، فکرو نشاط، ٧٥ ) ٢ - چاند کی اٹھائیس منزلوں میں سے تیسری منزل۔ "چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں: سرطان، لطین، ثریا، دبران. فروغ موخز رشاء"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٥٤٤:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں مستعمل ہے ١٦٤٩ء میں "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - چاند کی اٹھائیس منزلوں میں سے تیسری منزل۔ "چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں: سرطان، لطین، ثریا، دبران. فروغ موخز رشاء"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٥٤٤:٣ )

اصل لفظ: ثری
جنس: مذکر