ثقاہت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سنجیدگی، متافت، بھاری بھرکم پن، وضع قطع وغیرہ کی وہ کیفیت جس سے بزرگی اور وقار ظاہر ہو۔ "پچاس برس کا سن رسیدہ شخص بیٹھا ہوا ہے جس کی . ثقاہت کی وضح سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی علم اور محترم شخص ہے"      ( ١٩١٤ء، حسن کا ڈاکو، ١٥:١ ) ٢ - [ حدیث ]  "راوی کی سیرت میں ان شرطوں کا پیایا جانا جو اس کا بیان معتبر ہونے کے لیے ضروری ہیں۔" "ابن سعد اور ابو داؤد نے ان کی ثقاہت کی شہادت دی ہے اسی لیے محدثین کا فیصلہ ان کے حق میں ہے"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٧٩:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٨ء میں "لیکچروں کا مجموعہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سنجیدگی، متافت، بھاری بھرکم پن، وضع قطع وغیرہ کی وہ کیفیت جس سے بزرگی اور وقار ظاہر ہو۔ "پچاس برس کا سن رسیدہ شخص بیٹھا ہوا ہے جس کی . ثقاہت کی وضح سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی علم اور محترم شخص ہے"      ( ١٩١٤ء، حسن کا ڈاکو، ١٥:١ ) ٢ - [ حدیث ]  "راوی کی سیرت میں ان شرطوں کا پیایا جانا جو اس کا بیان معتبر ہونے کے لیے ضروری ہیں۔" "ابن سعد اور ابو داؤد نے ان کی ثقاہت کی شہادت دی ہے اسی لیے محدثین کا فیصلہ ان کے حق میں ہے"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٧٩:٣ )

اصل لفظ: ثقہ
جنس: مؤنث