جا

قسم کلام: اسم ظرف

معنی

١ - جگہ، ٹھکانا، مقام، مجلس۔  ہاتھ کٹواؤں اگر اس میں سرمو ہو خلاف غیر کے دل میں ہو اگر آپ کی جا تھوڑی سی      ( ١٩١١ء، ظہیر دہلوی، دیوان، ١٢٨:٢ ) ٢ - موقع، محل۔ "یہاں کے جملہ طالب علموں میں بہترین نمونہ ہیں یہ بہت خوشی کی جا ہے"      ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ٢٢٩ ) ٣ - [ مجازا ]  درجہ، رتبہ۔  حسین کشتہ ہوں تیرے ثبات پا کا ہائے حسین تو ہی تھا شائستہ اپنی جا کا ہائے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٢٣ ) ١ - بعوض، بجائے، بدلے میں۔  بیخود ہے وہ مرقع صورت کدہ جہاں کا جس میں کہ رنگ کی جامایوسیاں بھری ہیں      ( ١٩٤٠ء، بیخود، کلیات، ١٢٥ ) ٢ - بتایا ہوا راستہ، طریق۔  ان کی جا پروہ جو ہو گا مستقیم بخش دے گا سب گناہ ان کے کریم      ( ١٧٧٤ء، مثنویات حسن، ١٢٩:١ ) ٣ - بجا، صحیح، مناسب طور پر۔ "مطالعہ کو انہوں نے ایام طفولیت تک کے لیے موقوف نہیں رکھا بلکہ . اپنے خیالات کو جا طور پر اسقدر وزنی بنایا"      ( ١٩٠٤ء، عصر جدید، دسمبر، ٥٢٧ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم اور گا ہے بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٧٠٧ء میں ولی کے "کلیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - موقع، محل۔ "یہاں کے جملہ طالب علموں میں بہترین نمونہ ہیں یہ بہت خوشی کی جا ہے"      ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ٢٢٩ ) ٣ - بجا، صحیح، مناسب طور پر۔ "مطالعہ کو انہوں نے ایام طفولیت تک کے لیے موقوف نہیں رکھا بلکہ . اپنے خیالات کو جا طور پر اسقدر وزنی بنایا"      ( ١٩٠٤ء، عصر جدید، دسمبر، ٥٢٧ )

جنس: مؤنث