جاذبیت
معنی
١ - جذب کرنے کی قوت یا صلاحیت، کشش، (مجازاً) حسن و خوبی، تاثیر۔ "تم کو کیا معلوم اس نام میں کیسی جاذبیت ہے۔" ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ٥١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل 'جاذب' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت اور 'یت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'جاذبیت' بنا۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٤٠ء میں "مضامین رشید" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جذب کرنے کی قوت یا صلاحیت، کشش، (مجازاً) حسن و خوبی، تاثیر۔ "تم کو کیا معلوم اس نام میں کیسی جاذبیت ہے۔" ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ٥١ )