جارحیت
معنی
١ - جارح کا اسم کیفیت، حملہ آوری، جنگجوئی۔ "انسانی معاملات میں جارحیت کا رجحان اس طرف ہوتا ہے کہ اس کا مقابلہ جارحیت ہی سے کیا جائے" ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ١١٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل 'جارج' کے ساتھ عربی قواعد کے تحت 'یائے مشدد' اور 'ت' بطور لاحقہ کیفیت لگایا گیا ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور تحریری طور پر ١٩٦٩ء میں "نفسیات کی بنیادیں" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جارح کا اسم کیفیت، حملہ آوری، جنگجوئی۔ "انسانی معاملات میں جارحیت کا رجحان اس طرف ہوتا ہے کہ اس کا مقابلہ جارحیت ہی سے کیا جائے" ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ١١٧ )