جاریہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بہنے والا، رواں، بہتا ہوا۔ "ایک مقام سے دوسرے مقام تک حرکت جاریہ ہے"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ، ١٧٥:١ ) ٢ - مستقل جاری رہنے والا۔ "ان کے صدقۂ جاریہ سے صفحۂ روزگار پر ان کی اعلٰی یادگار قائم رہے"      ( ١٩٠٩ء، مقالات حالی، ١٩٤:٢ ) ١ - وہ لڑکی جو جوان نہ ہوئی ہو۔ (تہذیب الاخلاق، 124:3) ٢ - باندی، لونڈی۔ "اس وجہ سے عبد اور جاریہ کی تجارت مثل سابق کے نہیں ہے"      ( ١٩٢٣ء، سفر حج، افسر الملک، ٦١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل 'جاری' کی تانیث ہے عربی قواعد کے مطابق 'ہ' بطور لاحقہ تانیث لگایا گیا ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصل معنی میں ہی بطور اسم اور گا ہے بطور اسم صفت مستعمل ہے ١٨٧٤ء میں انیس کے "مراثی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بہنے والا، رواں، بہتا ہوا۔ "ایک مقام سے دوسرے مقام تک حرکت جاریہ ہے"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ، ١٧٥:١ ) ٢ - مستقل جاری رہنے والا۔ "ان کے صدقۂ جاریہ سے صفحۂ روزگار پر ان کی اعلٰی یادگار قائم رہے"      ( ١٩٠٩ء، مقالات حالی، ١٩٤:٢ ) ٢ - باندی، لونڈی۔ "اس وجہ سے عبد اور جاریہ کی تجارت مثل سابق کے نہیں ہے"      ( ١٩٢٣ء، سفر حج، افسر الملک، ٦١ )

اصل لفظ: حری
جنس: مؤنث