جاسوسی
معنی
١ - کھوج لگانے کا فعل، مخبری۔ "ابوسفیان کی طرف سے مسلمانوں کی جاسوسی پر مامور تھا" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٥٩:٢ ) ٢ - جاسوس سے منسوب یا متعلق۔ "ناول بھی ہر رنگ کے کوئی تاریخی کوئی محض خیالی . اور جاسوسی بھی" ( ١٩٣٦ء، انشائے ماجد، ٩٦:٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اس صفت 'جاسوس' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے 'جاسوسی' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٧٢ء میں فغان کے "دیوان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کھوج لگانے کا فعل، مخبری۔ "ابوسفیان کی طرف سے مسلمانوں کی جاسوسی پر مامور تھا" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٥٩:٢ ) ٢ - جاسوس سے منسوب یا متعلق۔ "ناول بھی ہر رنگ کے کوئی تاریخی کوئی محض خیالی . اور جاسوسی بھی" ( ١٩٣٦ء، انشائے ماجد، ٩٦:٢ )