جان

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - روح، جی، پران، دم، آتما، بولتا، نفس ناطقہ۔ "تمہاری جان زندہ رہے گی اور تم کو سب ابدی عہد یعنی داؤد کی نعمتیں بخشوں گا"      ( ١٩٥١ء، کتاب مقدس، ٧٠٥ ) ٢ - حاصل، لب لباب، اصل، حقیقت، ست۔ "یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا معاملے کی جان نکال کہ رکھ دی ہے"    ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٣٥ ) ٣ - رونق، سجاوٹ، زیب و زینت (تراکیب اضافی میں)۔ "راقم فقیر نے پھولوں کی نمائش دیکھی یہی سارے مجمع کی جان تھی"    ( ١٩١٣ء، سی پارۂ دل، ٦٥:١ ) ٤ - روح رواں، اصل قوت، طاقت کا سر چشمہ۔ "اسکندر ایک لاکھ بیس ہزار فوج سے آیا جس کی جان یونانی تھے"    ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ١٥٠ ) ٥ - جوہر۔  حسن ان کا تازگی کی جان ہے تجھ سے روکش ہوں یہ کب اسکان ہے    ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٢٣ ) ٦ - زندگی، حیات۔ "شاہدہ کو جو کچھ بدگمانی تھی وہ آمنہ جی جان ہی تک تھی"    ( ١٨٩٥ء، حیات صالحہ، ٧١ ) ٧ - [ مجازا ] زندگی کے لیے ضروری، لازمۂ حیات۔ "آج کل گرمیوں میں برف اور پنکھا جان ہے"    ( ١٨٩٤ء، کامنی، ٤٨٣ ) ٨ - (جان کی طرح) عزیز، پیارا؛ محبوب، من موہن۔  بانو کی روح جسم شہ بے وطن کی جاں دنیا کی زیب آل رسول زمن کی جاں      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٢١٩:١ ) ٩ - زور، طاقت جسمانی، بل، دم۔  تڑپ میں برق تھے مرکب کڑی جو رانیں تھیں بلا کے گھوڑوں میں کس بل بلا کی جانیں تھیں    ( ١٩٥١ء، آرزو، خمسۂ متحیرہ، ٤٥:٤ ) ١٠ - دلیل کا زور، معقولیت، وزن۔ "کیا ان اقوال کے پیش کر دینے کے بعد بھی اس دعوے میں کچھ جان باقی ہے"    ( ١٩٥٨ء، آزاد (ابوالکلام)، مسلمان عورت، ٤٤ ) ١١ - ہمت، جرات، جسارت۔ "دیکھیں اس میں کتنی جان ہے"    ( ١٩٦٣ء، تجزیۂ نفس، ٢٨٣ ) ١٢ - [ مجازا ]  کم عمر، بچہ۔ "بچی تیرہ برس کی جان کبھی بھولے سے بھی رات کو پھوپھی سے جدا نہ ہوئی"      ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ٤٤ ) ١٣ - [ مجازا ]  ذی روح، متنفس، شخص، فرد۔ "ہر جان پانی کی خواہان اور پانی مثل مجاز خطہ میں نایاب"      ( ١٩١٥ء، سی پارۂ دل، ٣٩ ) ١٤ - وجود، ذات، اپنا آپا۔ "میں نے جھک کر اسے پکڑنا چاہا، پوری جان سے اندر لڑھک گیا"      ( ١٩٤٤ء، رفیق حسین، گوری ہو گوری، ٤١ ) ١٥ - لخت جگر، کلیجے کا ٹکڑا، نور نظر، آنکھوں کا تارا، نہایت اور پیارا بیٹا یا بیٹی، لال۔  جان نو چندی کو یوں آتے نہیں اس راہ سے کر بلا سے پھر کے آخر جاتے ہو درگاہ کو      ( ١٨٣٢ء، دیوان رند، ١١:١ ) ١٦ - [ تصوف ]  روح، مجرد۔ (ماخوذ: فرہنگ آصفیہ؛ مصباح التصرف، 88) ١٧ - تعظیم اور پیار کا کلمہ (ابا اماں وغیرہ کے ساتھ)۔  بھائی حسن جو آپ کی گودی میں آئیں گے ہم تم سے نانا جان ابھی روٹھ جائیں گے      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٤:١ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ اس کی املا ن مغنونہ اور ن اصلی دونوں طرح مستعمل ہے۔ ١٧٣٩ء میں "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روح، جی، پران، دم، آتما، بولتا، نفس ناطقہ۔ "تمہاری جان زندہ رہے گی اور تم کو سب ابدی عہد یعنی داؤد کی نعمتیں بخشوں گا"      ( ١٩٥١ء، کتاب مقدس، ٧٠٥ ) ٢ - حاصل، لب لباب، اصل، حقیقت، ست۔ "یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا معاملے کی جان نکال کہ رکھ دی ہے"    ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٣٥ ) ٣ - رونق، سجاوٹ، زیب و زینت (تراکیب اضافی میں)۔ "راقم فقیر نے پھولوں کی نمائش دیکھی یہی سارے مجمع کی جان تھی"    ( ١٩١٣ء، سی پارۂ دل، ٦٥:١ ) ٤ - روح رواں، اصل قوت، طاقت کا سر چشمہ۔ "اسکندر ایک لاکھ بیس ہزار فوج سے آیا جس کی جان یونانی تھے"    ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ١٥٠ ) ٦ - زندگی، حیات۔ "شاہدہ کو جو کچھ بدگمانی تھی وہ آمنہ جی جان ہی تک تھی"    ( ١٨٩٥ء، حیات صالحہ، ٧١ ) ٧ - [ مجازا ] زندگی کے لیے ضروری، لازمۂ حیات۔ "آج کل گرمیوں میں برف اور پنکھا جان ہے"    ( ١٨٩٤ء، کامنی، ٤٨٣ ) ١٠ - دلیل کا زور، معقولیت، وزن۔ "کیا ان اقوال کے پیش کر دینے کے بعد بھی اس دعوے میں کچھ جان باقی ہے"    ( ١٩٥٨ء، آزاد (ابوالکلام)، مسلمان عورت، ٤٤ ) ١١ - ہمت، جرات، جسارت۔ "دیکھیں اس میں کتنی جان ہے"    ( ١٩٦٣ء، تجزیۂ نفس، ٢٨٣ ) ١٢ - [ مجازا ]  کم عمر، بچہ۔ "بچی تیرہ برس کی جان کبھی بھولے سے بھی رات کو پھوپھی سے جدا نہ ہوئی"      ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ٤٤ ) ١٣ - [ مجازا ]  ذی روح، متنفس، شخص، فرد۔ "ہر جان پانی کی خواہان اور پانی مثل مجاز خطہ میں نایاب"      ( ١٩١٥ء، سی پارۂ دل، ٣٩ ) ١٤ - وجود، ذات، اپنا آپا۔ "میں نے جھک کر اسے پکڑنا چاہا، پوری جان سے اندر لڑھک گیا"      ( ١٩٤٤ء، رفیق حسین، گوری ہو گوری، ٤١ )

جنس: مؤنث