جانا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - کسی جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، روانہ ہونا، سدھارنا۔ "کہیں آتی نہیں کہیں جاتی نہیں کسی سے بولتی نہیں۔"    ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ٤٢١:٢ ) ٢ - (کسی جگہ) پہنچنا، وارد ہونا۔  شروع صبح ازل سے ہوئے سوال و جواب تو جا کے شام ابد سلسلہ تمام ہوا    ( ١٩٤٠ء، ضیائے سخن، ١٤٩ ) ٣ - لگنا، عائد ہونا (الزام وغیرہ کے ساتھ)  بے وفا کہتے ہو دل کو مرے دلبر ہو کر یہ تو سوچو کہ یہ الزام کدھر جاتا ہے      ( ١٩١٥ء، جا سخن، ١٤٩ ) ٤ - چلنا، (پیدل) رہ طے کرنا۔ "جاتے جاتے ایک گورستان میں پہنچے۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٦ ) ٥ - داخل ہونا، پھنسنا۔  تجھ زلف میں جو دل کہ گیا اس کوں خلاصی نئیں صبح قیامت تلک اس شب کے سفرسوں      ( ١٧٠٧ء، ولی، کلیات، ١٤٠ ) ٦ - گزر جانا، بیت جانا۔  جب غم ہی زندگی ہے تو غم کیا اٹھائیے جاتی ہے رات ساغر و مینا اٹھائیے      ( ١٩٢٢ء، انوار، علی اختر، ٩٩ ) ٧ - (کسی چیز یا شخص سے) محروم ہونا۔ "دین سے یوں گئیں دنیا سے یوں گئیں۔"    ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٩٤ ) ٨ - کسی چیز کا نہ رہنا، چھوٹ جانا۔ "دفتر کا کام ہے اگر نہ کیا تو گئی نوکری۔"    ( ١٩٣٧ء، دنیائے تبسم، ٨٨ ) ٩ - (بالمقابل) کمتر ہونا۔  دہری نے کہا کہ کیا خدا کا منکر اس سے بھی گیا کہ جس کے لاکھوں ہوں خدا    ( ١٨٩٢ء، دیوان حالی، ١٣٨ ) ١٠ - رفع ہونا، دور ہو جانا، دفیعہ ہونا۔  سیر کو تم باغ کی اس دم چلو اے گل بدن رات میں جاتا رہے گا تیرا سب دیوانہ پن    ( ١٨٦٧ء، رونق کے ڈرامے، ٤٥:٥ ) ١١ - ختم ہونا۔  جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز تا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا    ( ١٨١٠ء، کلیات میر، ١٠٧ ) ١٢ - ضائع ہونا، نقصان ہونا (کیا کے ساتھ)۔  نہ اور کچھ سہی وہ گالیاں تو دے دیں گے چلو بھی حضرت دل آپ کا گیا کیا ہے      ( ١٨٩١ء، عاقل، دیوان، ٨٦ ) ١٣ - کھویا جانا، گم ہونا۔ "کچھ دھوبن نے کھوئے کچھ گھر میں گئے، چلو چھٹی ہوئی۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٥٦ ) ١٤ - مجازاً مرنا، وفات پانا، مٹ جانا۔ "جانے کی دیر ہے کچھ، چند سانس اور لینے ہیں۔"    ( ١٩١٨ء، انگوٹھی کا راز، ٢٦ ) ١٥ - (بچے کا) گزر جانا، مر جانا، اسقاط حمل ہونا۔ "ان کے ہاں کئی بچے جا کر ایک بچہ بچا۔"    ( ١٩١٧ء، شام زندگی، ٤٨ ) ١٦ - (کپڑے کا) پھٹ جانا۔ "اس کو درست کرا لو اور جو کہیں سے نہ گیا ہو اسے ویسا ہی رہنے دو۔"    ( ١٨٨٣ء، مجالس النسا، ٨٦:١ ) ١٧ - ہم بستر ہونا، مجامعت کرنا۔ (فرہنگ آصفیہ؛ نوراللغات) ١٨ - حملہ کرنا، ہلہ کرنا۔ "اس کے ملک پر کئی دفعہ گیا ہے اور قابو نہیں پایا۔"      ( ١٩٨٣ء، دربار اکبری، ٢٥٧ ) ١٩ - گرنا، خارج ہونا، نکلنا؛ ٹوٹ جانا۔ "لہو اتنا بدن سے گیا کہ مطلق طاقت اور ہوش کچھ باقی نہ رہا۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٥٨ ) ٢٠ - (پر کے ساتھ) خیال کرنا، پروا کرنا، اترانا۔ "اگر اس کی عظمت کی راز جوئی کرنا چاہتے ہو تو محض اس کی سپہ گری اور شجاعت پر نہ جانا۔"    ( ١٩١٥ء، فلسفۂ اجتماع، ١٤٥ ) ٢١ - متوجہ ہونا، رخ کرنا، رجوع کرنا۔ "وہ اس طرف گیا کہ ان کی توضیح الٰہی علم میں تلاش کی جائے۔"    ( ١٩٢٩ء، مفتاح الفلسفہ، ٣٨٢ ) ٢٢ - پیروی کرنا، دھیان دینا۔  اے ذوق جانہ ہوش و خرد کی صلاح پر جو عشق دے صلاح وہی ہے بجا صلاح      ( ١٨٥٤ء، ذوق، دیوان، ٩٨ ) ٢٣ - (پر کے ساتھ) روش اختیار کرنا، تقلید کرنا؛ مشابہ ہونا۔  آدمی ایسا کہاں کوئی فرشتہ ہو تو ہو شیخ صاحب یہ نہیں معلوم تم کس پر گئے    ( ١٨٨٤ء، آفتاب داغ، ١٤٠ ) ٢٤ - محلول ہونا، موقوف ہونا، ٹل جانا (وقت وغیرہ کا)۔  اب تک بہار ہے ہمیں لِلّہ صیاد وقت جاتا ہے پھر اگلے سال پر    ( ١٨٧٣ء، قدر، کلیات، ١٩٤ ) ٢٥ - [ مجازا ]  ہٹنا، سرکنا، لوٹ آنا۔  ہمارا تو جانے کو چاہا نہ جی کہ تھے پیر ہم واں ہوا خوب تھی      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١١٠٨ ) ٢٦ - (کیا کے ساتھ) ملنا، حاصل ہونا، نقصان ہونا۔  ضد سے وہ پھر رقیب کے گھر میں چلا گیا اے رشک مری جان گئی تیرا کیا گیا      ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٣٧ ) ٢٧ - کٹنا، قلم ہونا، ٹوٹنا، پھٹنا، (کسی عضو کے ساتھ)  جو گونج الجھی بالی کی جھنجھلا کے بولے لگے پیار کو آگ ابھی کان جاتا      ( ١٩٣٢ء، ریاض رضوان، ٦٨ ) ٢٨ - (مکان وغیرہ کا) کرائے پر اٹھنا۔ "کرایہ دار ابھی سے آنے لگے ہیں میرے خیال میں تیس چالیس سے کم میں نہ جائے گا۔"      ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ١٧٥ ) ٢٩ - محروم ہو جانا، معذور ہو جانا۔ "منہ کے ٹکڑے اڑ گئے اور روٹی کھانے سے بھی گئے۔"      ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٣٩ ) ٣٠ - کوئی خاص مسلک، طرز زندگی یا عقیدہ اختیار کرنا۔ "بہت عالم اس طرف گئے ہیں۔"      ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب، ٣٣ ) ٣١ - (سے کے ساتھ) کمتر اور حقیر ہونا۔  کبھو دے بزم میں اپنی مجھے بھی رخصت سوز گیا اثر میں مری جان کیا سپند سے میں    ( ١٧٩٥ء، قائم، دیوان، ١٠٣ ) ٣٢ - (بطور فعل معاون) اصل فعل کی تکمیل کے لیے۔ "وہ اس طرف گیا کہ ان کی توضیح الٰہی علم میں تلاش کی جائے۔"    ( ١٩٢٩ء، مفتاح الفلسفہ، ٢٧٢ ) ٣٣ - معروف سے مجہول بنانے کے لیے۔  رونے سے اور عشق میں بیباک ہو گئے دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے    ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ٢٢٩ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'یات' سے ماخوذ 'جا' کے ساتھ اردو علامت مصدر 'نا' لگانے سے 'جانا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٥٨٢ء میں "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، روانہ ہونا، سدھارنا۔ "کہیں آتی نہیں کہیں جاتی نہیں کسی سے بولتی نہیں۔"    ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ٤٢١:٢ ) ٤ - چلنا، (پیدل) رہ طے کرنا۔ "جاتے جاتے ایک گورستان میں پہنچے۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٦ ) ٧ - (کسی چیز یا شخص سے) محروم ہونا۔ "دین سے یوں گئیں دنیا سے یوں گئیں۔"    ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٩٤ ) ٨ - کسی چیز کا نہ رہنا، چھوٹ جانا۔ "دفتر کا کام ہے اگر نہ کیا تو گئی نوکری۔"    ( ١٩٣٧ء، دنیائے تبسم، ٨٨ ) ١٣ - کھویا جانا، گم ہونا۔ "کچھ دھوبن نے کھوئے کچھ گھر میں گئے، چلو چھٹی ہوئی۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٥٦ ) ١٤ - مجازاً مرنا، وفات پانا، مٹ جانا۔ "جانے کی دیر ہے کچھ، چند سانس اور لینے ہیں۔"    ( ١٩١٨ء، انگوٹھی کا راز، ٢٦ ) ١٥ - (بچے کا) گزر جانا، مر جانا، اسقاط حمل ہونا۔ "ان کے ہاں کئی بچے جا کر ایک بچہ بچا۔"    ( ١٩١٧ء، شام زندگی، ٤٨ ) ١٦ - (کپڑے کا) پھٹ جانا۔ "اس کو درست کرا لو اور جو کہیں سے نہ گیا ہو اسے ویسا ہی رہنے دو۔"    ( ١٨٨٣ء، مجالس النسا، ٨٦:١ ) ١٨ - حملہ کرنا، ہلہ کرنا۔ "اس کے ملک پر کئی دفعہ گیا ہے اور قابو نہیں پایا۔"      ( ١٩٨٣ء، دربار اکبری، ٢٥٧ ) ١٩ - گرنا، خارج ہونا، نکلنا؛ ٹوٹ جانا۔ "لہو اتنا بدن سے گیا کہ مطلق طاقت اور ہوش کچھ باقی نہ رہا۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٥٨ ) ٢٠ - (پر کے ساتھ) خیال کرنا، پروا کرنا، اترانا۔ "اگر اس کی عظمت کی راز جوئی کرنا چاہتے ہو تو محض اس کی سپہ گری اور شجاعت پر نہ جانا۔"    ( ١٩١٥ء، فلسفۂ اجتماع، ١٤٥ ) ٢١ - متوجہ ہونا، رخ کرنا، رجوع کرنا۔ "وہ اس طرف گیا کہ ان کی توضیح الٰہی علم میں تلاش کی جائے۔"    ( ١٩٢٩ء، مفتاح الفلسفہ، ٣٨٢ ) ٢٨ - (مکان وغیرہ کا) کرائے پر اٹھنا۔ "کرایہ دار ابھی سے آنے لگے ہیں میرے خیال میں تیس چالیس سے کم میں نہ جائے گا۔"      ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ١٧٥ ) ٢٩ - محروم ہو جانا، معذور ہو جانا۔ "منہ کے ٹکڑے اڑ گئے اور روٹی کھانے سے بھی گئے۔"      ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٣٩ ) ٣٠ - کوئی خاص مسلک، طرز زندگی یا عقیدہ اختیار کرنا۔ "بہت عالم اس طرف گئے ہیں۔"      ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب، ٣٣ ) ٣٢ - (بطور فعل معاون) اصل فعل کی تکمیل کے لیے۔ "وہ اس طرف گیا کہ ان کی توضیح الٰہی علم میں تلاش کی جائے۔"    ( ١٩٢٩ء، مفتاح الفلسفہ، ٢٧٢ )

اصل لفظ: یا(ت)