جاڑا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سردی، خنکی۔ "مینہ بوندی اور جاڑے سے بچا سکے"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١:١ ) ٢ - موسم سرما، سردی کا موسم۔  دل کی سردی آہ کی سوزش اور آنکھوں کے اشکوں سے چاہوں جاڑا چاہوں گرمی چاہوں تو برسات کروں      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ٩٤ ) ٣ - جاڑے کی فصل۔ "تمام سال میں تین تین فصلیں چار چار مہینے کی ہوتی ہیں ایک تو جاڑا کہ وہ ماہ ہائے کاتک . یا کچھ اس سے متعلق ہیں"      ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعات، ١٤ ) ٤ - تپ جوڑی، تپ لرزا، کپکپی والا بخار۔ "جاڑے آگئے مگر عارضی جاڑا شہر سے نہیں گیا"      ( ١٨٩٥ء، مکاتیب امیر، ١٤٠ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'جاڈیا + کن' سے ماخوذ اردو زبان میں 'جاڑا' مستعمل ہے اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء میں "تحفۃ المومنین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سردی، خنکی۔ "مینہ بوندی اور جاڑے سے بچا سکے"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١:١ ) ٣ - جاڑے کی فصل۔ "تمام سال میں تین تین فصلیں چار چار مہینے کی ہوتی ہیں ایک تو جاڑا کہ وہ ماہ ہائے کاتک . یا کچھ اس سے متعلق ہیں"      ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعات، ١٤ ) ٤ - تپ جوڑی، تپ لرزا، کپکپی والا بخار۔ "جاڑے آگئے مگر عارضی جاڑا شہر سے نہیں گیا"      ( ١٨٩٥ء، مکاتیب امیر، ١٤٠ )

اصل لفظ: جاڈیا+کن
جنس: مذکر