جبراً

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - از روے بے اختیاری، بے اختیاری سے، زبردستی سے۔ "رانا نے دوستی سے یا جبراً مجبور ہور کر صورت دکھا دی ہو تو عجب نہیں"      ( ١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی، ١٤٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے مشتق لفظ ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور متعلق فعل مستعمل ہے ١٨٧٣ء، میں "کلیات منیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - از روے بے اختیاری، بے اختیاری سے، زبردستی سے۔ "رانا نے دوستی سے یا جبراً مجبور ہور کر صورت دکھا دی ہو تو عجب نہیں"      ( ١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی، ١٤٨ )

اصل لفظ: جبر