جبری

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - مسلمانوں کا وہ فرقہ جو اس کا قائل ہے کہ انسان مجبور محض ہے، جبر یہ (قدری) کی ضد)۔ "جبریوں کا گروہ ارادہ کی صفت کا اگر انکار کرتا ہے تو یہ محض مکابرہ اور زبردستی کی بات ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ٢٤٠ ) ٢ - جبر کی طرف منسوب، لازمی، زبردستی کا۔ "فوجی خدمت جبری اور عام تھی۔"    ( ١٩١٢ء، شعرالعجم، ٢٩٧:٤ ) ٣ - زور یا دباؤ سے پیدا کردہ۔ "جب کوئی شخص پیانوں کے قریبب گاتا ہے تو کچھ ارتعاشات پیدا ہو جاتے ہیں جنہیں جبری (Forced) کہا جاتا ہے۔"    ( ١٩٦٧ء، آواز، ٣٥ ) ٤ - [ ریاضی ]  جبر و مقابلہ کی طرف منسوب۔ "جبری مساوات میں کوئی مقدار مبادلت کی ایک طرف سے دوسری طرف منتقل کی جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٩ء، مفتاح الفلسفہ، ٥٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'جبر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگنے سے 'جبری' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٩٥ء میں "آیات بینات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مسلمانوں کا وہ فرقہ جو اس کا قائل ہے کہ انسان مجبور محض ہے، جبر یہ (قدری) کی ضد)۔ "جبریوں کا گروہ ارادہ کی صفت کا اگر انکار کرتا ہے تو یہ محض مکابرہ اور زبردستی کی بات ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ٢٤٠ ) ٢ - جبر کی طرف منسوب، لازمی، زبردستی کا۔ "فوجی خدمت جبری اور عام تھی۔"    ( ١٩١٢ء، شعرالعجم، ٢٩٧:٤ ) ٣ - زور یا دباؤ سے پیدا کردہ۔ "جب کوئی شخص پیانوں کے قریبب گاتا ہے تو کچھ ارتعاشات پیدا ہو جاتے ہیں جنہیں جبری (Forced) کہا جاتا ہے۔"    ( ١٩٦٧ء، آواز، ٣٥ ) ٤ - [ ریاضی ]  جبر و مقابلہ کی طرف منسوب۔ "جبری مساوات میں کوئی مقدار مبادلت کی ایک طرف سے دوسری طرف منتقل کی جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٩ء، مفتاح الفلسفہ، ٥٨ )

اصل لفظ: جبر