جبریت
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - قطعیت، مجبور ہونے کی کیفیت۔ "جبریت جس کا مطالبہ یہ ہے کہ مشکلوں کے وقت سعی لا حاصل ہوتی ہے کبھی رائج نہیں ہو سکتی۔" ( ١٩٤٠ء، اصول نفسیات، ٤٦:٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے ماخوذ اسم جبر کے ساتھ عربی قواعد کے تحت یائے مشدد اور 'ت' لگانے سے 'جبریت' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٤٠ء میں "اصول نفسیات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قطعیت، مجبور ہونے کی کیفیت۔ "جبریت جس کا مطالبہ یہ ہے کہ مشکلوں کے وقت سعی لا حاصل ہوتی ہے کبھی رائج نہیں ہو سکتی۔" ( ١٩٤٠ء، اصول نفسیات، ٤٦:٣ )
اصل لفظ: جبر
جنس: مؤنث