جتھا

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - گروہ، جماعت۔ "نہ اپنا کوئی جتھا بنایا اور نہ کسی کے جتھے میں شریک ہوئے۔"    ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٥١ ) ٢ - غول، پرا؛ ہجوم۔ "ایک تو کوا اپنے یاروں کے جتھے سمیت چلا جائے گا اور دوسرے پھر . ادھر آنے کا قصد نہ کرے گا۔"    ( ١٨٠٣ء، اخلاق ہندی، ١٥٢ ) ٤ - سرمایہ، پونجی، (ذخیرہ کی ہوئی) دولت (عموماً جمع کے ساتھ)۔ "اس نے اپنے بیٹے کو اپنی ساری جتھا تجارت کا مال اور کپڑے دکھائے۔"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٧٨:٢ ) ٥ - [ مجازا ]  کنبہ، قبیلہ۔ "دوسرے ہم ہیں جتھے اور برداری کے لوگ۔"      ( ١٨٩٩ء، رویائے صادقہ، ٤٤ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'یوتھکن' سے ماخوذ اردو زبان میں 'جتھا' مستعمل ملتا ہے۔ اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٨٠٣ء میں "اخلاق ہندی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گروہ، جماعت۔ "نہ اپنا کوئی جتھا بنایا اور نہ کسی کے جتھے میں شریک ہوئے۔"    ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٥١ ) ٢ - غول، پرا؛ ہجوم۔ "ایک تو کوا اپنے یاروں کے جتھے سمیت چلا جائے گا اور دوسرے پھر . ادھر آنے کا قصد نہ کرے گا۔"    ( ١٨٠٣ء، اخلاق ہندی، ١٥٢ ) ٤ - سرمایہ، پونجی، (ذخیرہ کی ہوئی) دولت (عموماً جمع کے ساتھ)۔ "اس نے اپنے بیٹے کو اپنی ساری جتھا تجارت کا مال اور کپڑے دکھائے۔"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٧٨:٢ ) ٥ - [ مجازا ]  کنبہ، قبیلہ۔ "دوسرے ہم ہیں جتھے اور برداری کے لوگ۔"      ( ١٨٩٩ء، رویائے صادقہ، ٤٤ )

اصل لفظ: یوتھکن