جدال

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - (عموماً ترکیب میں) جنگ، لڑائی، جھگڑا۔ "چیز کی بابت تکرار ہوئی بھائی بھائی میں جدال و پیکار ہوئی۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٨٧ ) ٢ - تبلیغ و دعوت کا ایک اصول جس میں مقبول عام اقوال اور فریقین کے مسلم مقدمات سے استدال کیا جاتا ہے۔ "قرآن پاک نے پہلے طریقہ کو حکمت دوسرے کو موعظت حسنہ اور تیسرے کو جدال سے تعبیر کیا ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبی، ٣٥٢:١ ) ٣ - بحث و مباحثہ، تکرار، دعویٰ، مقابلہ۔  جدال دیر کے رہبان سنے کہاں تک میر اٹھو حرم کو چلو اب تمہیں خدا کی قسم      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٤٤٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصلی حالت اور اصل معنی میں ہی عربی سے ماخوذ ہے۔ اور ١٦٤٩ء میں "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (عموماً ترکیب میں) جنگ، لڑائی، جھگڑا۔ "چیز کی بابت تکرار ہوئی بھائی بھائی میں جدال و پیکار ہوئی۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٨٧ ) ٢ - تبلیغ و دعوت کا ایک اصول جس میں مقبول عام اقوال اور فریقین کے مسلم مقدمات سے استدال کیا جاتا ہے۔ "قرآن پاک نے پہلے طریقہ کو حکمت دوسرے کو موعظت حسنہ اور تیسرے کو جدال سے تعبیر کیا ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبی، ٣٥٢:١ )

اصل لفظ: جدل