جذبات

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کشش، کھنچاؤ، انسان کے فطری عواطف و میلانات (جیسے رنج، خوشی، غصہ وغیرہ)۔ "نفس کے اندر مختلف قسم کے جذبات اور حرکات پیدا ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٦:٣ ) ٢ - ذہنی تاثرات، احساسات۔ "حکام سلطنت . رعایا کے جذبات کی دلداری اختیار کریں۔"      ( ١٩١٩ء، غدر دہلی کے افسانے، ٣:٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے ماخوذ اسم 'جذبہ' کے ساتھ 'ات' بطور لاحقۂ جمع لگنے سے 'جذبات' بنا۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے۔ ١٨٧٠ء کو "خطبات احمدیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کشش، کھنچاؤ، انسان کے فطری عواطف و میلانات (جیسے رنج، خوشی، غصہ وغیرہ)۔ "نفس کے اندر مختلف قسم کے جذبات اور حرکات پیدا ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٦:٣ ) ٢ - ذہنی تاثرات، احساسات۔ "حکام سلطنت . رعایا کے جذبات کی دلداری اختیار کریں۔"      ( ١٩١٩ء، غدر دہلی کے افسانے، ٣:٥ )

اصل لفظ: جذب
جنس: مذکر