جذباً

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - بطور جذب، کھینچنے یا پکڑنے کے لیے، جذب کرنے کے لیے۔ "بجلی کے تار کو ہاتھ نہ لگانا چاہیے خواہ جذباً (پکڑنے کے لیے) ہو یا دفعاً۔"      ( ١٩٥٨ء، ملفوظات، اشرف علی تھانوی، ٣:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم کیفیت 'جذب' کے ساتھ 'اً' بطور لاحقہ تمیز ملانے سے "جذباً" بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٩٥٨ء میں "ملفوظات، اشرف علی تھانوی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بطور جذب، کھینچنے یا پکڑنے کے لیے، جذب کرنے کے لیے۔ "بجلی کے تار کو ہاتھ نہ لگانا چاہیے خواہ جذباً (پکڑنے کے لیے) ہو یا دفعاً۔"      ( ١٩٥٨ء، ملفوظات، اشرف علی تھانوی، ٣:٢ )

اصل لفظ: جذب