جذبہ
معنی
١ - کشش، کھنچاؤ۔ "کوئی شخص ایسے مقامات معظمہ میں بغیر . جذبہ نیت خالص کے نہیں جاسکتا۔" ( ١٨٣٩ء، تواریخ مراسس شہزادہ حبش کی (ترجمہ)، ٦٢ ) ٢ - انسان کا فطری میلان جیسے خوشی غم، غصہ وغیرہ۔ "یہ ایک فطری جذبہ ہے۔" ( ١٨٥٤ء، مضامین فرحت، ١٠:٣ ) ٣ - غصہ، تیہا۔ "اس بے بسی کی حالت کو دیکھ کر تیمور کو جذبہ آیا۔" ( ١٩٣٠ء، تیمور، ١٠٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٧٨٦ء میں "دیوان میر حسن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کشش، کھنچاؤ۔ "کوئی شخص ایسے مقامات معظمہ میں بغیر . جذبہ نیت خالص کے نہیں جاسکتا۔" ( ١٨٣٩ء، تواریخ مراسس شہزادہ حبش کی (ترجمہ)، ٦٢ ) ٢ - انسان کا فطری میلان جیسے خوشی غم، غصہ وغیرہ۔ "یہ ایک فطری جذبہ ہے۔" ( ١٨٥٤ء، مضامین فرحت، ١٠:٣ ) ٣ - غصہ، تیہا۔ "اس بے بسی کی حالت کو دیکھ کر تیمور کو جذبہ آیا۔" ( ١٩٣٠ء، تیمور، ١٠٨ )