جراحت
قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )
معنی
١ - زخم، گھاؤ۔ لطف جراحت اور بھی خستہ و زار کو ملے چاندنی رات میں کوئی سیر ہو تازہ گل کھلے ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ٤٦ ) ٢ - عمل جراحی، سرجری۔ سنائیں کھینچ لی ہیں سر پھرے باغی جوانوں نے تو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا ( ١٩٥٥ء، مجاز، آہنگ، ٨٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: جرح