جزا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - اچھا بدلا، عوض، (اچھے کام اور نیکی کا) صلہ، ثمر۔  پوری جزا ملے گی اس دل کو حشر میں جس کو خیال شکوۂ قاتل نہیں رہا      ( ١٩٤٠ء، بیخود موہانی، کلیات، ٢ ) ٢ - سزا، براعوض، بدلا، انتقام۔ "جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا دوزخ ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ١٣:٢ ) ٣ - جملہ شرطیہ کا جز دوم یا حواب شرط۔ "ایک جملہ ہے ناتمام جس میں مبتدا کی خبر نہیں شرط کی جزا نہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، اجتہاد، ٥٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء میں "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سزا، براعوض، بدلا، انتقام۔ "جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا دوزخ ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ١٣:٢ ) ٣ - جملہ شرطیہ کا جز دوم یا حواب شرط۔ "ایک جملہ ہے ناتمام جس میں مبتدا کی خبر نہیں شرط کی جزا نہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، اجتہاد، ٥٤ )

اصل لفظ: جزی
جنس: مؤنث