جزع

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ناشکیبائی، بے صبری۔ "یہ آنسو بے صبری اور ناشکیبائی اور جزع کی وجہ سے نہیں بہتے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٦٣:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصل معنی میں ہی اردو زبان میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٨٠ء میں "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ناشکیبائی، بے صبری۔ "یہ آنسو بے صبری اور ناشکیبائی اور جزع کی وجہ سے نہیں بہتے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٦٣:١ )

اصل لفظ: جزع
جنس: مؤنث