جزم

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - (کسی ایک طرف) توجہ، التفات۔ "کسی ایک طرف یعنی فقط صدق یا فقط کذب کی طرف ملتفت ہوا . تو یہ یک طرفہ التفات "جزم یا قطع" کہلاتا ہے۔"    ( ١٩٦٩ء، ایوب دہلوی، فتنۂ انکار حدیث، ٣٨ ) ٢ - [ لفظا ] کاٹنا۔ (اسٹین گاس؛ فرہنگ آنند راج) ٣ - اٹل، مضبوط، پختہ، مصمم۔ "کشادہ دلی کے علاوہ عزم جزم اور دلیری معمولی آدمیوں سے بڑھ کر تھی۔"      ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ١١٠ ) ٤ - فیصلہ، قطعی تاکید، وثوق، اعتماد، یقین۔ "پورے جزم اور پورے یقین، پورے وثوق سے کہتا ہوں۔"      ( ١٩٥٨ء، ناقابل فراموش، ١٦ ) ٥ - حرف کو ساکن کرنا نیز وہ علامت ( ) جو ساکن حرف پر لکھی جاتی ہے، جیسے عزم کی 'ز' پر۔  جزم تشدید و مد زیر و زبر و پیش نہیں اس کے سخن میں خوب اندیش      ( ١٨٣٩ء، مفتاح الایمان (رسائل حیات، ٨٤) )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب کا مصدر ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٩٥ء میں "دیپک پتنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کسی ایک طرف) توجہ، التفات۔ "کسی ایک طرف یعنی فقط صدق یا فقط کذب کی طرف ملتفت ہوا . تو یہ یک طرفہ التفات "جزم یا قطع" کہلاتا ہے۔"    ( ١٩٦٩ء، ایوب دہلوی، فتنۂ انکار حدیث، ٣٨ ) ٣ - اٹل، مضبوط، پختہ، مصمم۔ "کشادہ دلی کے علاوہ عزم جزم اور دلیری معمولی آدمیوں سے بڑھ کر تھی۔"      ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ١١٠ ) ٤ - فیصلہ، قطعی تاکید، وثوق، اعتماد، یقین۔ "پورے جزم اور پورے یقین، پورے وثوق سے کہتا ہوں۔"      ( ١٩٥٨ء، ناقابل فراموش، ١٦ )

اصل لفظ: جزم