جزو
معنی
١ - مع تحتی الفاظ؛ ریزہ، پارہ، ٹکڑا، حصّہ۔ "ہر انفرادی جزو بذات خود حسن کا حامل نہیں ہو گا۔" ( ١٩٦٢ء، تاریخ جمالیات، ١٨٤ ) ٢ - [ طباعت ] کاغذ کا پورا تاؤ جس پر کتاب وغیرہ کے آٹھ یا سولہ صفحات بیک وقت چھاپے جاتے ہیں، فرما، (مجازاً) کتاب۔ کاغذ کے عوض چرخ کے گوہفت طبق ہیں اک جزو بھی پورا نہیں کل سات ورق ہیں ( ١٨٧٥ء، دبیر، دفتر ماتم، ٦٨:٦ )
اشتقاق
عربی زبان کے اصل لفظ 'جز' کی ایک املا 'جزو' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٧٦ء میں "بحرالفصاحت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مع تحتی الفاظ؛ ریزہ، پارہ، ٹکڑا، حصّہ۔ "ہر انفرادی جزو بذات خود حسن کا حامل نہیں ہو گا۔" ( ١٩٦٢ء، تاریخ جمالیات، ١٨٤ )