جسارت

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - ہمت، دلیری، مردانگی، جرات (گستاخی کی حد تک) "وہ کبھی بہادری اور جسارت کے زیور سے آراستہ نہیں ہو سکتا"۔      ( ١٩٣٢ء، ید قدرت، ٢٠ ) ٢ - بے باکی۔ "ایسی جسارت تو کجا خفیف سے خفیف اختلاف کی بھی مجال نہ تھی"۔      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٣٣٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے ثلاثی مزید فیہ کے باب سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٥ء میں قائم کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہمت، دلیری، مردانگی، جرات (گستاخی کی حد تک) "وہ کبھی بہادری اور جسارت کے زیور سے آراستہ نہیں ہو سکتا"۔      ( ١٩٣٢ء، ید قدرت، ٢٠ ) ٢ - بے باکی۔ "ایسی جسارت تو کجا خفیف سے خفیف اختلاف کی بھی مجال نہ تھی"۔      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٣٣٩ )

اصل لفظ: جسر
جنس: مؤنث