جسامت
قسم کلام: اسم حاصل مصدر
معنی
١ - موٹائ، کسی چیز کا حجم، جسیم ہونا، موٹا ہونا۔ "پھر متناسب جسامت کی ڈبیوں میں بھر دیں" ( ١٩٣٤ء، صنعت و حرفت، ١٦ )
اشتقاق
ثلاثی مزید فیہ کے باب سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر استعمال ہوتا ہے۔
مثالیں
١ - موٹائ، کسی چیز کا حجم، جسیم ہونا، موٹا ہونا۔ "پھر متناسب جسامت کی ڈبیوں میں بھر دیں" ( ١٩٣٤ء، صنعت و حرفت، ١٦ )
جنس: مؤنث