جسور
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - دلیر، جری، جسارت کرنے والا۔ "ان میں اسلامی جسارت اس قدر ہے کہ دنیا میں ان سے زیادہ جسور کوئی قوم نہیں۔" ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ١٦٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١١ء میں "باقیات بجنوری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دلیر، جری، جسارت کرنے والا۔ "ان میں اسلامی جسارت اس قدر ہے کہ دنیا میں ان سے زیادہ جسور کوئی قوم نہیں۔" ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ١٦٨ )
اصل لفظ: جسر
جنس: مذکر