جسیم
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - دبیز جسم والا، تن و توش کا، موٹا، فربہ۔ "دیسی مرغیاں دو ایک نسلوں کے بعد بہت خوبصورت اور جسیم ہو جائیں گی۔" ( ١٩٢٤ء، پرندوں کی تجارت، ٣١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور معنی میں ہی بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٠١ء میں "باغ اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دبیز جسم والا، تن و توش کا، موٹا، فربہ۔ "دیسی مرغیاں دو ایک نسلوں کے بعد بہت خوبصورت اور جسیم ہو جائیں گی۔" ( ١٩٢٤ء، پرندوں کی تجارت، ٣١ )
اصل لفظ: جسم
جنس: مذکر