جفت
معنی
١ - جوڑا، وہ عدد جو دو پر پورا پورا تقسیم ہو جائے (طاق کی ضد)، ہر شے جو دو ہوں۔ لیکن مری آنکھوں میں کھپا وہ ابرو اس جفت کا انحصار اسی طاق پہ ہے ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ٢٢٠ ) ٢ - زن و شوہر، تر ومادہ، میاں بیوی یا نرو مادہ میں سے کوئی ایک۔ "کوئی جانور ایسا نہیں ہے کہ اپنی جفت کی نسبت اس کو غیرت نہ ہو اور دوسرے سے اس کا تعلق پسند کرے۔" ( ١٩١٢ء، مکاتیب شبلی، ١٦٤:٢ ) ٣ - گنجفہ، چوسر وغیرہ کھیلوں میں ایک داؤ کا نام جس میں اگر دو کا عدد آجائے تو باری آجاتی ہے یا جیت ہو جاتی ہے۔ "بڑا سبب یہ ہے کہ طاق اور جفت دونوں داؤ ان ہی کے ہیں۔" ( ١٨٩٥ء، لکچروں کا مجموعہ، ٥٣:٢ ) ٤ - جوڑا، ثانی، مقابل۔ "طاق ابرو عنبر مو کا ساری خدائی میں جفت نہیں ہے۔" ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ٤٥٣:٣ ) ٥ - جوتی کا جوڑا۔ "دیکھو بی بی صاحبہ جب کسی مجلس میں جاتی ہیں اپنے جفت کو جدا نہیں کرتیں ساتھ لاتی ہیں۔" ( ١٩٧٤ء، دیوان دِلی (مقدمہ)، ٨١ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء میں "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - زن و شوہر، تر ومادہ، میاں بیوی یا نرو مادہ میں سے کوئی ایک۔ "کوئی جانور ایسا نہیں ہے کہ اپنی جفت کی نسبت اس کو غیرت نہ ہو اور دوسرے سے اس کا تعلق پسند کرے۔" ( ١٩١٢ء، مکاتیب شبلی، ١٦٤:٢ ) ٣ - گنجفہ، چوسر وغیرہ کھیلوں میں ایک داؤ کا نام جس میں اگر دو کا عدد آجائے تو باری آجاتی ہے یا جیت ہو جاتی ہے۔ "بڑا سبب یہ ہے کہ طاق اور جفت دونوں داؤ ان ہی کے ہیں۔" ( ١٨٩٥ء، لکچروں کا مجموعہ، ٥٣:٢ ) ٤ - جوڑا، ثانی، مقابل۔ "طاق ابرو عنبر مو کا ساری خدائی میں جفت نہیں ہے۔" ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ٤٥٣:٣ ) ٥ - جوتی کا جوڑا۔ "دیکھو بی بی صاحبہ جب کسی مجلس میں جاتی ہیں اپنے جفت کو جدا نہیں کرتیں ساتھ لاتی ہیں۔" ( ١٩٧٤ء، دیوان دِلی (مقدمہ)، ٨١ )