جلا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - چمک، صیقل، صفائی، آب وتاب۔ "دو آئینے ہیں ایک محض شیشے کا ٹکڑا ہے، دوسرے میں جلا بھی کر دی گئی ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، چکبست، مضامین، ٨٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے اصلی معنی میں ہی ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء میں "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چمک، صیقل، صفائی، آب وتاب۔ "دو آئینے ہیں ایک محض شیشے کا ٹکڑا ہے، دوسرے میں جلا بھی کر دی گئی ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، چکبست، مضامین، ٨٤ )

اصل لفظ: جلی
جنس: مؤنث