جلاب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دست آور دوا، مسہل۔ "آج جلاب لیا جس سے آرام ہوا۔"      ( ١٩١٧ء، خطوط خواجہ حسن نظامی، ٣٤:١ ) ٢ - دست، اسہال، پتلی اجابت، (پانی جیسا) پاخانہ۔  دست آتے ہیں اگر مج کو تو اس کا غم نہیں یعنی بد ہضمی مری جلاب سے کچھ کم نہیں      ( ١٨٣٢ء، چرکین، دیوان، ٤١ ) ٣ - [ طب ]  گلاب کا شربت۔ "عرف اطبا میں جلاب سے شربت گلاب ہی مقصود ہوتا ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٢٦٨:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اور ایک امکان یہ بھی ہے کہ فارسی اسم 'گلاب' سے ماخوذ ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٩١ء میں جانم کے "رسالہ وجودیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دست آور دوا، مسہل۔ "آج جلاب لیا جس سے آرام ہوا۔"      ( ١٩١٧ء، خطوط خواجہ حسن نظامی، ٣٤:١ ) ٣ - [ طب ]  گلاب کا شربت۔ "عرف اطبا میں جلاب سے شربت گلاب ہی مقصود ہوتا ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٢٦٨:٣ )

اصل لفظ: جلب
جنس: مذکر