جلباب
معنی
١ - چادر، برقع، پردے کا اوٹ۔ "جلباب کے معنی میں اگرچہ متاخرین نے بہت سے اقوال نقل کیے ہیں لیکن محقق یہ ہے کہ جلباب ایک قسم کا برقع یا چادر تھی۔" ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ١١٨:١ ) ٢ - لمبی نقاب۔ ہزاروں گھر ہوے ظالم رجل کے ہاتھ خراب فتا کی سیکڑوں چہروں پہ پڑ گئی جلباب ( ١٩٢٥ء، ریاض امجد، ٥٧ ) ٣ - ایک ڈھیلا ڈھالا چوغا جو صبح اٹھ کر نہانے کے بعد یا گھر پر غیر رسمی طور پر پہنا جاتا ہے۔ "سنگار میز سے آویزاں ایک جلباب (Dresing gown) ہے۔" ( ١٩٣٧ء، طب قانونی، ٥٩٤ )
اشتقاق
اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے۔ اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٨٦ء میں "دیوان میر حسن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چادر، برقع، پردے کا اوٹ۔ "جلباب کے معنی میں اگرچہ متاخرین نے بہت سے اقوال نقل کیے ہیں لیکن محقق یہ ہے کہ جلباب ایک قسم کا برقع یا چادر تھی۔" ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ١١٨:١ ) ٣ - ایک ڈھیلا ڈھالا چوغا جو صبح اٹھ کر نہانے کے بعد یا گھر پر غیر رسمی طور پر پہنا جاتا ہے۔ "سنگار میز سے آویزاں ایک جلباب (Dresing gown) ہے۔" ( ١٩٣٧ء، طب قانونی، ٥٩٤ )