جلنا
معنی
١ - روشن ہونا، آگ لگنا۔ جلنا نہ تمہیں انجمن یار میں آیا اتنا تو ہمیں کہتے ہیں پروانے بھی جل کر ( ١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ٥٥ ) ٢ - [ مجازا ] مشتعل ہونا، غصے سے بھڑک اٹھنا۔ داغ نے جب یہ کہا داغ جگر دیکھا بھی جل کے وہ کہنے لگے تیرا کلیجا دیکھا ( ١٩٠٥ء، داغ، یادگار داغ، ١٤ ) ٣ - جھلسنا، بھننا، (مجازاً) گرم ہونا، تپنا۔ "بادسموم کا چلنا، پہاڑوں کا تپنا، ریگ رواں کا جلنا۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ٣٨ ) ٤ - راکھ ہو جانا، سوختہ ہو جانا۔ "لوگ اس آگ میں جا کر پھاندتے ہیں وہاں گئے اور جل گئے۔" ( ١٩٠٠ء، طلسم خیال سکندری، ٧٢:٢ ) ٥ - [ مجازا ] حسد کرنا، رشک کرنا، تپش میں مبتلا ہونا۔ "وہ صاف ستھرا اور سلیقے سے رہتا ہے تو لوگ اس سے جلتے ہیں۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٨٢ ) ٦ - [ مجازا ] سوزش میں مبتلا ہونا۔ دکھ درد ٹیس جلنا رہ رہ کے پھر لپکنا پھوڑا ہے دل نہیں ہے تجھ کو سنائیں کیا کیا ( ١٧٩٨ء، سوز، دیوان، ٧ ) ٧ - حسد اور رشک سے تکلیف میں مبتلا ہونا۔ میرے جلنے پر جو رویا غیر تیری بزم میں سوز دل کو آپ اشک آتش پہ روغن ہو گیا ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٢٩ ) ٩ - [ مجازا ] کبیدہ خاطر ہونا، ناراض ہونا (غصہ میں آکر)۔ "میں نے جل کر وہ اخبار چھین لیا اور باہر سڑک پر پھینک دیا۔" ( ١٩١٤ء، دلاری، ٦٩ ) ١٠ - [ مجازا ] دل آزردہ ہونا، غم اٹھانا، رنج و غم میں گھلنا؛ اذیت میں مبتلا ہونا۔ "چپکی بیٹھی دیکھ رہی ہوں اور چل رہی ہوں۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٣ ) ١١ - (موسم کے اثر سے نباتات کا) کمھلا جانا، سوکھ جانا۔ "جب ایک پتا پورے طور پر اپنی بہار دکھا جاتا ہے جل کر گر پڑتا ہے۔" ( ١٩٠٦ء، "مخزن، جون، ١٣ ) ١٢ - [ مجازا ] ناپسند کرنا، نفرت کرنا۔ "گول پنجہ کی جوتی سے میں اور بھی زیادہ جلتی ہوں۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٥٠ ) ١٣ - داغ لگنا (کسی چیز سالن ترکاری وغیرہ کا جلنا)۔ "تھوڑی تھوڑی دیر بعد دیکھتے رہا کریں کہ اسفنج ایک دم آگ میں رہ کر جل نہ جائے۔" ( ١٩٣٠ء، عصمتی دسترخوان، ١١٧ ) ١٤ - جل کر خشک ہو جانا، ختم ہو جانا۔ "جب پانی جل جائے اور صرف تیل رہ جائے تو . مالش کریں۔" ( ١٩٣٣ء، حمیات اجامیہ، ١٥١ ) ١٥ - اگر برف دیر تک ہاتھ میں رہے تو اس کی غیر معمولی ٹھنڈک کے اثر سے بیچپن ہونا۔ (ماخوذ: مہذب اللغات)
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'جول' سے ماخوذ اردو میں 'جل' بنا۔ اور پھر اردو لاحقۂ مصدر 'نا' بطور علامت مصدر لگنے سے 'جلنا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - جھلسنا، بھننا، (مجازاً) گرم ہونا، تپنا۔ "بادسموم کا چلنا، پہاڑوں کا تپنا، ریگ رواں کا جلنا۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ٣٨ ) ٤ - راکھ ہو جانا، سوختہ ہو جانا۔ "لوگ اس آگ میں جا کر پھاندتے ہیں وہاں گئے اور جل گئے۔" ( ١٩٠٠ء، طلسم خیال سکندری، ٧٢:٢ ) ٥ - [ مجازا ] حسد کرنا، رشک کرنا، تپش میں مبتلا ہونا۔ "وہ صاف ستھرا اور سلیقے سے رہتا ہے تو لوگ اس سے جلتے ہیں۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٨٢ ) ٩ - [ مجازا ] کبیدہ خاطر ہونا، ناراض ہونا (غصہ میں آکر)۔ "میں نے جل کر وہ اخبار چھین لیا اور باہر سڑک پر پھینک دیا۔" ( ١٩١٤ء، دلاری، ٦٩ ) ١٠ - [ مجازا ] دل آزردہ ہونا، غم اٹھانا، رنج و غم میں گھلنا؛ اذیت میں مبتلا ہونا۔ "چپکی بیٹھی دیکھ رہی ہوں اور چل رہی ہوں۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٣ ) ١١ - (موسم کے اثر سے نباتات کا) کمھلا جانا، سوکھ جانا۔ "جب ایک پتا پورے طور پر اپنی بہار دکھا جاتا ہے جل کر گر پڑتا ہے۔" ( ١٩٠٦ء، "مخزن، جون، ١٣ ) ١٢ - [ مجازا ] ناپسند کرنا، نفرت کرنا۔ "گول پنجہ کی جوتی سے میں اور بھی زیادہ جلتی ہوں۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٥٠ ) ١٣ - داغ لگنا (کسی چیز سالن ترکاری وغیرہ کا جلنا)۔ "تھوڑی تھوڑی دیر بعد دیکھتے رہا کریں کہ اسفنج ایک دم آگ میں رہ کر جل نہ جائے۔" ( ١٩٣٠ء، عصمتی دسترخوان، ١١٧ ) ١٤ - جل کر خشک ہو جانا، ختم ہو جانا۔ "جب پانی جل جائے اور صرف تیل رہ جائے تو . مالش کریں۔" ( ١٩٣٣ء، حمیات اجامیہ، ١٥١ )