جلوہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نمایش، نظارہ، دیدار، اپنے آپ کو خاص انداز سے دکھانا، اپنے تئیں ظاہر کرنا، سامنے آنا۔  اس کا جلوہ جو کلیم آنکھوں میں کر جاتا گھر سامنے آٹھ پہر وادی ایمن رہتا      ( ١٩٠٣ء، نظم نگارین، ١٥ ) ٢ - ظہور، رونق، جھلک۔ "اسپین و مراکش میں کبھی کبھی فلسفے کا جلوہ نظر آ جاتا تھا۔"    ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٢٣:٥ ) ٣ - معشوقانہ انداز، دلربائی، حسن۔  طاؤس میں جلوہ ہے پہ یہ چال نہیں ہے پریوں کے کھلے بال ہیں یہ بال نہیں ہے    ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ١٢٧:١ ) ٤ - آر سی مصحف کی رسم۔ "دلہن پسند آئی جلوے کے روز سے یہ صورت بنائی اور مجھ سے ناراض ہو گیا۔"      ( ١٩٢٦ء، سرگزشت ہاجرہ، ٤٧ ) ٥ - [ تصوف ]  مشاہدہ۔ (مصباح التعرف، 92)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اصل لفظ'جلوۃ' ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'جلوہ' اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ظہور، رونق، جھلک۔ "اسپین و مراکش میں کبھی کبھی فلسفے کا جلوہ نظر آ جاتا تھا۔"    ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٢٣:٥ ) ٤ - آر سی مصحف کی رسم۔ "دلہن پسند آئی جلوے کے روز سے یہ صورت بنائی اور مجھ سے ناراض ہو گیا۔"      ( ١٩٢٦ء، سرگزشت ہاجرہ، ٤٧ )

اصل لفظ: جلو
جنس: مذکر