جماؤ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اجتماع، بھیڑ، ہجوم۔ "لیکن ان میں سے کسی جماؤ کو بھی انجمن نہیں کہہ سکتے۔"      ( ١٩٤١ء، حیوانی دنیا کے عجائبات، ١ ) ٢ - [ مجازا ]  لشکر، لشکر کا اکٹھا ہونا۔ "دشمن کے جماؤ کو دیکھ کر . بم کے گولے پھینکتے ہیں۔"      ( ١٩٢١ء، توپ خانہ، ٢٥ ) ٣ - گنجان (آبادی، سکونت وغیرہ کے ساتھ)۔ "اکثر لوگ مہمات جنگ پر رہتے تھے . اس لیے سکونت خانہ داری کا جماؤ کم تھا۔"      ( ١٨٦٨ء، مقالات محمد حسین آزاد، ٦٨:١ ) ٤ - ایک جا مرکوز کرنا | ہونا، (توجہ وغیرہ کا) ارتکاز۔ "مجھے یہ عقیدہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شعور بغیر توجہ یعنی بغیر جماؤ کے نہیں ہو سکتا۔"      ( ١٩٣١ء، نفسیاتی اصول، ٩٢ ) ٥ - قیام، پڑاؤ۔ "غنیم کا شاہ نہایت محفوظ قلعے میں بیٹھا ہے میسرہ کے گوشہ میں اس کا جماؤ ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، سفرنامہ ہندوستان، حسن نظامی، ١٧ ) ٦ - انجماد، بستگی۔ "خون کے جماؤ کو دور کرنے کے لیے پانچ پانچ رتی کا سفوف دن میں تین چار بار دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ١٨٣:٣ ) ٧ - [ مجازا ]  پختگی "یہاں زبان میں ایک جماؤ اور قوت اظہار کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٨٠:١ ) ٨ - رونق، چہل پہل۔ "محفل جماؤ پر تھی کہ ایک کالے کلوٹے موٹے تازے سفید پوش تشریف لائے۔"      ( ١٩٤٣ء، دلی کا سنبھالا، ٥٧ ) ٩ - خوبصورتی، زیبائش۔ "لال سبز کائی ان پر اپنا جماؤ دکھاتی ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، خمارستان، ٨٠٠ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'جمنا' سے حاصل مصدر ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٣ء میں "رانی کیتکی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اجتماع، بھیڑ، ہجوم۔ "لیکن ان میں سے کسی جماؤ کو بھی انجمن نہیں کہہ سکتے۔"      ( ١٩٤١ء، حیوانی دنیا کے عجائبات، ١ ) ٢ - [ مجازا ]  لشکر، لشکر کا اکٹھا ہونا۔ "دشمن کے جماؤ کو دیکھ کر . بم کے گولے پھینکتے ہیں۔"      ( ١٩٢١ء، توپ خانہ، ٢٥ ) ٣ - گنجان (آبادی، سکونت وغیرہ کے ساتھ)۔ "اکثر لوگ مہمات جنگ پر رہتے تھے . اس لیے سکونت خانہ داری کا جماؤ کم تھا۔"      ( ١٨٦٨ء، مقالات محمد حسین آزاد، ٦٨:١ ) ٤ - ایک جا مرکوز کرنا | ہونا، (توجہ وغیرہ کا) ارتکاز۔ "مجھے یہ عقیدہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شعور بغیر توجہ یعنی بغیر جماؤ کے نہیں ہو سکتا۔"      ( ١٩٣١ء، نفسیاتی اصول، ٩٢ ) ٥ - قیام، پڑاؤ۔ "غنیم کا شاہ نہایت محفوظ قلعے میں بیٹھا ہے میسرہ کے گوشہ میں اس کا جماؤ ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، سفرنامہ ہندوستان، حسن نظامی، ١٧ ) ٦ - انجماد، بستگی۔ "خون کے جماؤ کو دور کرنے کے لیے پانچ پانچ رتی کا سفوف دن میں تین چار بار دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ١٨٣:٣ ) ٧ - [ مجازا ]  پختگی "یہاں زبان میں ایک جماؤ اور قوت اظہار کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٨٠:١ ) ٨ - رونق، چہل پہل۔ "محفل جماؤ پر تھی کہ ایک کالے کلوٹے موٹے تازے سفید پوش تشریف لائے۔"      ( ١٩٤٣ء، دلی کا سنبھالا، ٥٧ ) ٩ - خوبصورتی، زیبائش۔ "لال سبز کائی ان پر اپنا جماؤ دکھاتی ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، خمارستان، ٨٠٠ )

اصل لفظ: جَمْنا
جنس: مذکر